شوگر اور بلڈ پریشر بیماری نہیں بلکہ غذائی بد اعمالیوں کے اثرات ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگی ادویات کی محتاج نہیں کرنا چاہتے تو ہمیں ھیلتھ سائنسز کو سمجھنے کیلئے تھوڑی کوشش کرنی ہوگی۔ ہم شوگر کی بیماری میں جتنی بھی احتیاط کریں اور ہم جتنا بھی وقت پر ادویات لیتے رہیں چند سالوں کے بعد ہماری دوائیوں میں کمی نہیں ہوتی بلکہ کچھ عرصے بعد ایک آدھ گولی مزید تجویز ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر سے پوچھیں تو وہ آپ کو قصور وار گردانے گا اور آپ اس سے ایک نئی گولی اور احساس جرم لے کر واپس لوٹ آئیں گے۔
اصل بات یہ ہے کہ ہم نیوٹریشن سائنس کو نہیں سمجھتے۔ اسی لئے ہم یہ جان ہی نہیں پاتے کہ ہماری خوراک کا ہماری صحت اور ہماری جسمانی بیماری پر کیا اثر ہورہا ہے۔ ہمارے اس گروپ کا بنیادی مقصد یہ ہےکہ ہم نیوٹریشن کی جدید سائنس سمجھیں اور دیکھیں کہ کیسے دنیا بھر میں لوگ شوگر بلڈ پریشر جیسے بیماریوں سے مستقل طور پر نجات پا رہے ہیں۔یہ بات تو ہر شوگر کے مریض کو معلوم ہے کہ شوگر کا استعمال ہماری شوگر کی بیماری کو بڑھا دیتا ہے۔ ڈاکٹر بھی ہمیں تجویز کرتے ہیں کہ چینی کا استعمال بلکل نہ کریں۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اگر آپ چینی کی مقدار سو فیصد تک ختم بھی کردی تب بھی آپ کی بلڈ شوگر رپورٹ میں شوگر بڑھی ہوئی نظر آئے گی۔۔۔۔ اس کی کیا وجہ ہے جب آپ نے شوگر کھائی ہی نہیں تو پھر بلڈ میں شوگر ملکی مقدار کیسے بڑھ گئی؟
دراصل ہمارا خیال یہ ہوتا ہے کہ شوگر کا مطلب ہے چینی۔ اگر چینی چھوڑ دیں گے تو خوراک سے ملنے والی شوگر ختم ہو جائے گی۔ یہ بات بلکل درست نہیں ہے۔ ہماری خوراک جو کہ زیادہ تر کاربوہائیڈریٹس پر مبنی ہوتی ہے وہ سب شوگر سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔
اگر میں کسی شوگر کے مریض کو کہوں کہ آپ دس چمچ چینی کے کھا لیں تو کوئی بھی شخص اس مشورے کو تسلیم نہیں کرےگا لیکن اگر میں ایک پیالہ ابلے ہوئے چاول کا دوں تو پیشنٹ اسے بے ضرر سمجھ کر کھا لے گا۔ حالانکہ اس ایک پیالہ چاول میں بھی دس چینی کے چمچ جتنی شوگر موجود ہے۔۔۔۔
زیادہ کارب والی غذائیں ہمیں بیمار کر رہی ہیں۔ ان میں چھپی ہوئی بیماری کو ہم دیکھ نہیں پاتے اسی لئے ہم شوگر اور بلڈ پریشر کے منحوس دائرے میں پھنسے رہتے ہیں۔ آپ جب چاہیں ان بیماریوں اور ان کی مسلسل استعمال ہونے والے ادویات سے نجات پا سکتے ہیں۔۔۔۔ کرنا صرف یہ ہے کہ آپ کو شوگر پیدا کرنے والی غذاؤں کو ترک کرنا ہے۔۔۔۔
آپ کی صحت آپ کے ہاتھ میں ہے کیا آپ صحتمند زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں یا لذت کے غلام بن کر بیماریوں میں زندگی
گزارنا چاہتے ہیں۔۔۔۔
فیصلہ آپ نے کرنا ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں