میٹھا نہ کھائیں اور پراسیس شدہ اشیاء سے پرہیز کریں۔ یہ
تجویز تو بہت عرصے سے دی جا رہی ہے مگر پھر بھی شوگر، موٹاپا، بلڈ پریشر اور دیگر
موضی بیماریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اب یہ بات بہت واضع ہوچکی ہے کہ یہ سب بیماریاں
خوراک کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان بیماریوں سے دل کی بیماریاں بھی پیدا ہورہی
ہیں۔ اس مسئلے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اور ہمارے ڈاکٹر چند ایک بنیادی باتوں کے
علاوہ ڈائیٹ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
مریض کو ڈاکٹر پر بھروسہ ہوتا ہے اس کی خوراک پر دی گئی
تجاویز بہت اثرانداز ہوسکتی ہیں۔ مگر افسوس کہ ڈاکٹرز کی ساری تعلیم بیماری کے
علاج سے متعلق ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کو غذائی علم نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اسی لئے آج
کے ڈاکٹر خود بھی بہت بیمار ہیں۔ اکثر ڈاکٹروں کا ضرورت سے زیادہ وزن ہے یا وہ خود
بھی شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض ہیں۔ امریکی کالجز میں اس کی ٹریننگ میں غذائی
تعلیم کا ٹوٹل وقت 25 گھنٹے یا اس سے بھی کم ہے۔ اور یہ بھی امریکہ کے چند ایک
کالجز میں سہولت موجود ہے جو کہ کل کا تقریبا 29 فیصد بنتا ہے۔ گویا کہ اکثر
ڈاکٹرز کو نیوٹریشن کی تعلیم نہیں دی جاتی۔
ڈاکٹروں کو نیوٹریشن کی تعلیم کیوں نہیں دی جاتی؟ اس کی کئی
وجوہات ہیں مثلا فنڈز کی کمی ، نصاب میں پہلے ہی بہت کچھ شامل ہے اس میں مذید کوئی
مضمون ڈالنا بہت مشکل ہے، اعلی تعلیم یافتہ نیوٹریشنسٹ پروفیسرز کی کمی اور سب سے
بڑی بات یہ ہے کہ بیمار کے علاج پر توجہ زیادہ ہے، بیماری سے بچنے کیلئے احتیاط پر
توجہ نہیں۔
میڈیکل تعلیم کا بنیادی ڈھانچہ 1920 میں ترتیب دیا گیا تھا۔
تب لائف اسٹائل کی بیماریاں اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھیں۔ اس کے بعد سے اب تک میڈیکل
سائنس میں جو بھی ترقی ہوئی وہ اسٹوڈنٹس کے نصاب میں درجہ بدرجہ شامل ہوتی گئی مگر
نیوٹریشن سائنس پر اہل علم توجہ نہ دے سکے۔ آج خوراک سے پیدا شدہ بیماریاں عالمی
وباء کی صورت اختیار کرگئی ہیں تو اب عالمی یونیوسٹیوں میں میڈکل اسٹوڈنٹس کو
خوراک کی تعلیم دینے پر بحث چھڑگئی ہے۔
سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ اگر ڈاکٹرز کو خوراک کی تعلیم دے
بھی دی جائے تو کیا وہ مریض کو صحیح طریقہ سے غذائی کونسلنگ کر سکیں گے؟
مریض کو بیماری اور عمر کے حساب سے صحت کیلئے احتیاطی
تدابیر میں سگریٹ سے بچاؤ، خالص غذا کھانے، زیادہ سبزیاں اور پھل کھانے، چینی سے
پرہیز، بازاری کھانوں جس میں گندہ تیل استعمال ہوتا ہے سے بچنا، مناسب ورزش،
دانتوں کی صفائی کے بارے میں احتیاط، ذہنی دباؤ، مناسب نیند۔۔۔۔ یہ ایک لمبی لسٹ
ہے۔ ان سب پر ڈاکٹر ایک بیٹھک میں ڈاکٹر اپنے مریض کو بریف نہیں کرسکتا۔
ایک بات توطے ہوچکی کی ہماری بیماریوں میں ہماری خوراک اور
ہمارے روزمرہ کے معمول کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اچھی صحت کیلئے آج ہمیں ڈاکٹر کے ساتھ
ڈائٹیشنز کی بھی ضرورت ہے۔ جو مریض کو بیماری کے بعد صحتیاب ہونے میں اور بعد میں
صحتمند زندگی اپنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
پہلے دور میں علم کے ذرائع بہت محدود تھے۔ کتاب اور درسگاہ
کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ آسانی سے نہیں ملتا تھا۔ مگر جب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی
کا چلن ہوا ہے۔ آہستہ آہستہ انٹرنیٹ پر جدید علم کا خزانہ جمع ہونے لگا ہے۔ یہ علم
اب ہر خاص و عام کیلئے آسان زبان میں موجود ہے۔۔۔۔ اب اگر کوئی چاہے تو خود
یونیورسٹیز میں جائے بغیر بھی دنیا کے عظیم ترین استادوں سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔
نئی تحقیق سے واقف ہوسکتا ہے۔ اب آپ اپنی صحت سے متعلق معلومات کیلئے کسی بڑےعلم
والے مغرور ڈاکٹر کے محتاج نہیں ہیں۔ آپ اپنی بیماری کے بارے میں جدید تحقیق پڑھ
سکتے ہیں۔ اس بیماری کی وجوہات جان سکتے ہیں۔ اس کیلئے کیا احتیاطی تدابیر رکھنی
چاہیں وہ بھی جان سکتے ہیں۔ صحت برقرار رکھنے کیلئے اگر آپ کا ڈاکٹر مشورہ نہیں
دیتا تو کوئی بات نہیں آپ کیلئے بےشمار انٹرنیشنل ماہر ڈاکٹرز آن لائن موجود ہیں
جو اپنی ویڈیو لیکچرز اور تحریروں کے ذریعے آپ تک پہنچ سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی اگر ہم اپنی کنڈیشنز اور اس سے
بچنے کے علم سے غافل ہیں تو پھر ہمارا کوئی علاج نہیں۔
https://www.heart.org/en/news/2018/05/03/how-much-does-your-doctor-actually-know-about-nutrition

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں