خوراک جسمانی طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے مگر آج ہماری خوراک بیماریاں پیدا کرنے کی بنیادی وجہ بن چکی ہے۔ ایک تو خوراک کی ضرورت سے زیادہ فراہمی دوسرے زیادہ تر پراسیس شدہ جعلی خوراک۔ یہ دونوں عوامل مل کر ہماری خوراک کو ہمارے لئے زہر بنا رہے ہیں۔ ہم خوراک کو ذائقے خوشبو اور خوبصورت پیکنگ سے متاثر ہوکر کھا لیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ ہم جو کھا رہے ہیں اس کے جسم پر بہت دیر پا اثرات ہوتے ہیں۔ خوراک کے صحت پر اثرات کو سمجھنے کیلئے ہمیں پہلے صحت کے بارے میں تصور کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر بیماری نہ ہونے کو صحت سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ صحت اس سے بہت زیادہ کا معاملہ ہے۔ یہ مسلسل جدوجہد کا نام ہے جو پیدائش کے دن سے شروع ہوکر آخری دن تک چلتی ہے۔ ہمارا امیون سسٹم یا جسے ہم مدافعتی نظام کہتے ہیں وہ ہمارے جسم کی حفاظت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ہمارے مدافعتی نظام کے کئے حصے ہیں۔ کچھ تو اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ یہ کینسر جیسے موذی مرض کو بھی ختم کرنے کی صلاحیت رکھت ہیں۔ یہ نظام مختلف سیکشنز میں کام کرتا ہے مگر یہ ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور مکمل ہم آہنگی سے کام کرتے ہیں۔ ہم اس نظام کے مختلف حصوں کو مضبوط بنا کر بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ہمارے مدافعتی نظام کے پانچ اہم جز ہیں جنھیں ہم صحت کے بنیادی پلر یا ستون بھی کہہ سکتے ہیں۔ ہر ایک ستون کو ہم خوراک سے متاثر کرسکتے ہیں۔ جب آپ جان جاتے ہیں کہ کون سی خوراک سے ہم مدافعتی نظام کو بہتر بنا سکتے ہیں تو پھر آپ اپنی ڈائٹ کو بہتر بنا کر بیماریوں سے لڑ سکتے ہیں۔
مدافعتی نظام کے پانچ حصے درج ذیل ہیں
1۔ اینجیو جینیسس( خون کی نئی نالیوں
کی پیدائش)
ہمارے جسم میں تقریبا 6 ھزار میل لمبی خون کی نالیاں ہیں جو
ہمارے جسم کے خلیوں اور اعضاء کو آکسیجن اور توانائی پہنچاتی ہیں۔
اینجیو جینیسس کے عمل سے یہ خون کی نالیاں بنتی ہیں۔ ہماری
خوراک میں شامل سبز چائے، کافی، ٹماٹر اور چیز وغیرہ اس نظام پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
2۔ ریجینیریشن(پیدائش نو یا
تعمیر نو)
جسم کی تعمیر نو کی ذمہ داری ہمارے سٹیم سیلز کی ہے۔ یہ
خلئے ہڈیوں کے گودے، پھیپھڑوں، گردوں اور تمام اعضاء میں پھیلے ہوتے ہیں۔ یہ سیل
ہمارے جسم کی تعمیرنو، مرمت اور بحالی کا عمل جاری رکھتے ہیں۔ ڈارک چاکلیٹ، بلیک ٹی،
وغیرہ ان سیلز کو حرکت میں لانے کا باعث ہوسکتے ہیں۔
3۔ مائکروبیوم(چھوٹے
جانداروں کی انسانی جسم میں کالونیاں)
جسم میں موجود 40 ٹریلین سے زیادہ نظر نہ آنے والے کیڑے
ہمارے جسم کے حفاظتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ ان پر تحقیق کا ابھی آغاز ہوا ہے اور حیران
کن انقشافات ہورہے ہیں۔ یہ کالونیاں مدافعتی نظام کے مختلف حصوں کو مضبوط بناتی ہیں۔
بہت سے ہارمون یہاں پیدا ہوتے ہیں جو ہمارے دماغ اور معاشرتی رویوں پر اثرانداز
ہوتے ہیں۔ یہ ہماری خون کی نالیوں کی پیدائش نو میں بھی معاون ہوتی ہیں۔ الغرض یہ
ہماری صحت سے لے کر ہمارے رویوں تک سب پر اثرانداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے۔ ان
کالونیوں میں اچھے کیڑے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی۔ ہم اچھی خوراک کھا کر اپنے
مددگار کیڑوں کی تعداد کو بڑھا سکتے ہیں۔ کمچی، ساورکراوٹ، چیز اور دہی وغیرہ ان
اچھے کیڑوں کو مدد فراہم کرتے ہیں۔
4۔ ڈی این اے پروٹیکشن (ڈی
این اے کا حفاظتی نظام)
ڈی این اے ہمارا جسمانی خاکہ ہے۔ جس کی بنیاد پر ہمارا جسم
بنتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ڈی این اے ہمارے مدافعتی نظام کا حصہ بھی ہے۔ ڈی این
اے ہمیں سورج کی تابکاری، گھریلو استعمال کے کیمیکلز، ذہنی دباؤ، نیند اور کھانے
سے پیدا شدہ مسائل سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈی این اے خراب ہونے
کی صورت مدافعتی نظام تو ٹھیک کام کرے گا مگر ہمارا جسمانی خاکہ درست نہ ہونے کی
صورت تعمیر نو بھی درست نہیں ہوپائے گی۔ ڈی این اے کی حفاظت میں بھی ہماری خوراک
کا اہم کردار ہے۔ کچھ خوراکیں ایسی ہیں جو ہمارے ڈی این اے میں موجود ٹیلیمئرز کی
لمبائی بڑھاتا ہے جبکہ وقت کے ساتھ ان کی لمبائی کم ہوتی جاتی ہے۔ لمبے ٹلیمئرز ڈی
این اے کو محفوظ رکھتے ہیں اور دیر تک جوانی قائم رکھتے ہیں۔
5۔ امیونیٹی (امیون سسٹم)
نئی تحقیق نے ہمارے مدافعتی نظام کے بارے میں سوچ کو بدل دیا
ہے۔ یہ نظام جتنا ہم سوچتے تھے اس سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ ہے۔ یہ نظام ملٹری جیسی
خصوصیات سے مزین ہوتا ہے۔ اس کی کئی برانچز ہیں۔ ہر برانچ میں مختلف قسم کے سپاہی
پائے جاتے ہیں۔ ہر سپاہی کی مختلف طرح سے تربیت کی جاتی ہے۔ ان کو مختلف اقسام کے
اسلحہ اور مختلف قسم کی مہارت دی جاتی ہے۔ ہمارے امیون سسٹم کی سنٹرل کمانڈ جسم کے
چار حصوں میں پائی جاتی ہے۔ ہڈیوں کے گودا، تھائمس غدود، تلی، لمف نوڈ یا بغل کی
غدود اور آنتڑیوں میں موجود کالونیاں۔۔۔
ہم اپنے امیون سسٹم کو اخروٹ اور انار کے باقاعدہ استعمال
سے تقویت دی سکتے ہیں۔ ہمارے جسم کے مدافعتی نظام کے پانچوں حصے ہماری خوراک سے
متاثر ہوتے ہیں۔ اگر اچھی خوراک کھاتے ہیں تو ہمارے جسم کا مدافعتی نظام بہتر ہوتا
ہے اور ہم جسم پر حملہ آوروں سے بہتر طور پر لڑنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ اگر خوراک
اچھی نہیں تو یہ ہمارے مدافعتی نظام کو کمزور کرے گی۔ اور ہمارے سپاہی مقابلہ نہ
کرپانے کے باعث مغلوب ہوجائیں گے اور ہم بیمار پڑ جائیں گے۔
میڈیسن کے باپ : ہیپوکریٹس نے آج سے 2400 سال قبل کہا تھا کہ
خوراک کو دوائی کی طرح کھاؤ ورنہ دوائی کو خوراک کے طور پر استعمال کرنا پڑے گا۔
ماخذ: ولیم لی کی کتاب
| Extracts from: William W. Li's Book |

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں