شوگر کی دو اقسام ہیں۔ ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو۔ پہلی قسم کی شوگر ہمارے مدافعتی نظام میں خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیماری شوگر کے تمام مریضوں کا تقریبا دس فیصد سے بھی کم ہوتا ہے اور یہ عام طور پر بچوں اور جوان لوگوں کو لاحق ہوتی ہے۔ اس بیماری میں ہمارا مدافعتی نظام ہی ہمارے لبلبے پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔ اور لبلبے کو انسولین بنانے سے روک دیتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلاء شخص کو انسولین کے انجیکشن لینے پڑتے ہیں تاکہ وہ اپنے جسم کی انسولین کی ضرورت کو پورا کر سکے۔
دوسری قسم جوکہ 90 فیصد لوگوں میں پائی جاتی ہے اس میں لبلبہ انسولین بناتا ہے مگر خوراک میں موجود گلوکوز کی زیادہ مقدارکی وجہ سے انسولین مکمل طور پر شوگر یا گلوکوز کو خون سے نکال کر جسم کا حصہ نہیں بنا پاتی اس وجہ سے خون میں گلوکوز کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ خون کا ٹیسٹ کرنے پہ بڑھی ہوئی شوگر نظر آتی ہے۔ خون سے ہوتی ہوئی یہ شوگر پیشاب کے راستے باہر نکل جاتی ہے اور جسم بھوکا ہی رہ جاتا ہے۔ خون میں شوگر کا زیادہ دیر تک اضافی مقدار جسم میں سوزش پیدا کرتی ہے۔
شوگر سے پیدا شدہ سوزش ہمارے اندر انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کرتی ہے۔ شوگر جزب نہ ہونے کی وجہ سے خلیے بھوک کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ ہم بھوک اور پیاس مٹانے کیلئے کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے ہیں۔ اس طرح ہم جسم میں شوگر کو مذید بڑھا لیتے ہیں
انسولین
انسولین ایک ہارمون ہے جسے ہمارا لیور پیدا کرتا ہے۔ یہ ہمارے خون میں موجود گلوکوز کو جسم کے خلیوں تک کے جاتا ہے۔ جسے استعمال کر کے خلئے اپنا وجود قائم رکھتے ہیں۔ جسم میں خوراک ہضم ہوکر گلوکوز میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ گلوکوز ہمارے خون میں دوڑنے لگتا ہے۔ اس گلوکوز کو جسم کے خلیوں میں فوری جذب کرنا ضروری ہوتا ہے جب تک گلوکوز خلیوں تک نہیں پہنچے گا جسم میں کمزوری موجود رہے گی۔ اسی لئے جیسے ہی ہم کوئی فوری ہضم ہونے والی غذا کھاتے ہیں تو ہمارا لیور فوری انسولین چھوڑتا ہے جو خون میں شامل ہو کر وہاں موجود گلوکوز کو خلیوں تک لے جاتی ہے۔
ے۔ آپ کی خوراک جو بھر بھر کے جسم میں گلوکوز کا اضافہ کرتی جاتی ہے وہ ضرورت سے زائد ہونے کی وجہ سے چربی یا فیٹ بن کر جسم کے اندر جمع ہونے لگتی ہے۔ یہ چربی جسم کے کئی حصوں میں جمع ہوتی ہے۔ جسم کے اندرونی اعضاء پر ، پیٹ میں بڑی اور چھوٹی آنت کے گرد اور ہماری جلد کی اندرونی تہہ میں۔۔۔۔ اس فیٹ کی وجہ سے ہم موٹاپے کا شکار ہوجاتےہیں۔ جلد کے گرد اکٹھی ہونے والی چربی اتنی خطرناک نہیں ہوتی جتنی پیٹ اور ہمارے اعضاء کے گرد ہونے والی ہوتی ہے۔ اندرونی فیٹ ہمیں نظر نہیں آتی۔۔۔ یہ چربی ہمیں فیٹی لیور، بلڈ پریشر اور دل کی امراض کا شکار کرتی ہے۔ اضافی شوگر کی وجہ سے یورک ایسڈ بنتا ہے اور کولیسٹرول بھی خون میں بڑھ جاتا ہے۔۔۔۔۔
اب تک کی معلومات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ ذیابیطس کی بیماری دراصل ہماری خوراک کی پیدا کردہ ہے۔ اگر ہم درست خوراک کھانے کا ہنر سیکھ لیں اور ایسی خوراک کھائیں جس سے ہمیں طاقت تو ملے مگر جسم میں گلوکوز کی مقدار میں اضافہ نہ ہو تو ہم صرف شوگر جیسی موضی مرض پر قابو نہیں پائیں گے بلکہ اس سے منسلک بہت سی دیگر بیماریوں سے بھی اپنے آپ کو محفوظ بنا لیں گے۔۔۔۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں