نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سپلیمنٹس کی حقیقت : چند حقائق

 

جو لوگ صحت توجہ دیتے ہیں وہ مختلف قسم کی صحتمند عادات اپناتے ہیں۔ خوراک کے انداز تبدیل کرتے ییں ورزش کو معمول بناتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اکثر لوگ سپلیمنٹس بھی اپنی خوراک میں شامل کرلیتے ہیں۔ اکثر و بیشتر فٹنس ماہرین اور ڈاکٹرز سپلیمنٹ تجویز کرتے ہیں۔ بیماری میں خوراک کی کمی واقع ہوجاتی ہے جسم کمزور ہوتا ہے اس لئے ڈاکٹر سپلیمنٹ تجویز کرتے ہیں۔ یہ محدود مدت کیلئے تجویز کئے جاتے ہیں۔ اور اکثر اوقات صحتمند ہونے کے بعد ڈاکٹر ان کے استعمال سے روک دیتے ہیں۔ کچھ لوگ جن کا بزنس ہی سپلیمنٹ بیچنا ہوتا ہے اگر ان سے پوچھیں گے تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ کوئی بھی خوراک کھالیں آپ کو وٹامن اور نیوٹریشن کی کمی لازمی رہتی ہے جسے آپ کو سپلیمنٹ استعمال کرکے پورا کرنا چاہئے۔


 

سپلیمنٹس کیا ہیں؟

ملٹی وٹامن، وٹامن ڈی، مچھلی کا تیل اور اسی طرح کے بےشمار ناموں سے سپلیمنٹ مارکیٹ میں آچکے ہیں۔ ان کو بنانے والی کمپنیوں کا دعوہ ہے کہ یہ آپ کی خوراک کمی کو پورا کرتے ہیں۔ ان کے استعمال سے آپ کو صحت کے چند فوائد حاصل ہوسکتے ہیں مگر خیال رہے کہ ان میں خطرات بھی موجود ہیں۔ سپلیمنٹ کے استعمال سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

 

سپلیمنٹس کے فوائد کیا ہیں؟

سپلیمنٹس آپ کی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔ سپلیمنٹ آپ کی خوراک میں موجود کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ کیلشیم اور وثامن ڈی آپ کی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں، فائبر آنتوں کی صحت کیلئے اچھے ہیں۔ چند ایک سپلیمنٹس کے فوائد کے شواہد کافی تعداد میں موجود ہیں جبکہ دوسرے بہتوں کے بارے میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔  یاد رہے کہ سپلیمنٹ خوارک کا نعم البدل نہیں ہیں

 

سپلیمنٹس کے خطرات

سپلیمنٹس میں موجود اجزاء کا جسم پر مثبت سے زیادہ منفی اثر ہوسکتا ہے۔ کچھ سپلیمنٹس آپ کے زیر استعمال ادویات اور لیب ٹیسٹ پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ سرجری کے دوران ان کے لینے سے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ یاد رکھیں  سپلیمنٹ کوئی خوراک نہیں بلکہ یہ پراسیس شدہ میڈیسن ہے۔ اور ہم سب جانتے ہیں ہر میڈیسن کے سائڈ افیکٹ بھی ہوتے ہیں۔ سپلیمنٹ کے بھی صحت پر مضراثرات ہوسکتے ہیں۔ سپلیمنٹ کے منفی اثرات نکل سکتے ہیں اگر

٭  آپ مختلف قسم کے سپلیمنٹ ملا کر لیں

٭  جب آپ میڈیسن کے ساتھ سپلیمنٹ ملا کر لیں

٭جب آپ زیادہ تعداد میں سپلیمنٹ استعمال کرلیں

٭جب آپ غیر معیاری سپلیمنٹ لیں

 

انھیں کون ریگولیٹ کرتا ہے؟

پوری دنیا میں سپلیمنٹس کو کوئی ادارہ ریگولیٹ نہیں کرتا۔ امریکی ادارہ ایف ڈی اے واضع طور پر اپنی ویب سائٹ پر بتا چکا ہے کہ وہ کسی قسم کے سپلیمنٹس کو ریگولیٹ کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ ریفرنس نیچے دیکھیں۔ انکا کہنا ہے کہ وہ سپلیمنٹس کی افادیت، سیفٹی یا لیبلنگ کو چیک کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ یہ سپلیمنٹ بنانے والی کمپنیوں پر ہی منحصر ہے کہ وہ ان سیفٹی اور افادیت پر توجہ دیں۔ ان پر صرف انتی پابندی ہے کہ وہ سپلیمنٹ کی ڈبی پر اس کی خوراک کی مقدار، اس میں موجود نیوٹریشن کی تفصیل درج کریں۔

 

نتیجہ

اس ساری بحث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگرچہ بعض وٹامن سپلیمنٹس آپ کی صحت کیلئے فائدہ مند ہوسکتے ہیں مگر انھیں بہت احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا چاہئے۔ اگر آپ کوئی لوکل سپلیمنٹس استعمال کر رہے ہیں تو وہ سستے ہونگے مگر ان کے غیر معیاری ہونے کی وجہ سے آپ کو فائدہ سے زیادہ نقصان کا احتمال ہے۔ جبکہ اگر آپ امپورٹڈ سپلیمنٹس افورڈ کرسکتے ہیں تو شاید وہ لوکل سے کچھ بہتر ہوں مگر ان کی غذائی افادیت کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ دنیا بھر میں ادویات کے منفی اثرات کی وجہ سے لوگوں میں بیماریوں کے متبادل علاج  اور غذا سے علاج پروان چڑھ رہا ہے۔ علاج بالاغذا میں کچھ ماہرین سپلیمنٹس پر بہت زور دیتے ہیں۔ خاص طور پر ویگنز یا سبزی خور لوگوں میں نیوٹریشنز کی کمی کو سپلیمنٹس سے پورا کرنے کو کہا جاتا ہے۔ سپلیمنٹس تجویز کرنا اور ان کی خوراک تجویز کرنا ماہرین کے مشورے کے بغیر خطرناک ہوسکتا ہے۔ سپلیمنٹ کے استعمال پر بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب ڈھونڈنا بہت ضروری ہے۔ جیسا کہ سپلیمنٹس کون سے اور کتنی مقدار میں لئے جائیں؟  کون سے سپلیمنٹ کس دوائی کے ساتھ لینا نقصاندہ ہوسکتے ہیں؟ کون سے سپلیمنٹ زیادہ مقدار میں لینے سے کیا نقصان ہوگا؟ جو بھی سپلیمنٹ لیا جا رہا ہے اس کی افادیت پر کوئی سائنٹیفک ریسرچ ہوئی ہے؟

 

سب سے بہتر یہ ہے کہ آپ اپنی خوراک کو اتنا متنوع بنا لیں کہ آپ کو سپلیمنٹس کی ضرورت نہ رہے۔ اپنی خوراک میں مختلف الاقسام کی اشیاء کا استعمال کریں۔ جن میں پروٹین، فیٹ اور فائبر کی وافر مقدار موجود ہو۔ پروٹین اور فیٹ کیلئے گوشت، انڈے، مکھن وغیرہ لیں اس کے ساتھ مختلف پھلوں اور سبزیوں کو خوراک میں شامل کریں تاکہ وٹامن اور فائبر زیادہ مقدار میں میسر ہوسکے۔ اگر آپ کیلشیم کیلئے سپلیمنٹ لیتے ہیں تو وہ جسم میں کیلشیم بڑھا کر دل کے مرض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے مگر آپ کیلشیم کیلئے اگر مالٹا، آڑو وغیرہ لیتے ہیں تو اس طرح کا خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔

امید ہے کہ ہمارے یہ ریسرچ آپ کو سپلیمنٹ کے بارے میں مطلوبہ معلومات فراہم کرنے میں کامیاب ہوئی ہوگی۔ اچھی خوراک کھائیں صحتمند رہیں۔

 

FDA disclaimer about Dietary Supplements

https://www.fda.gov/consumers/consumer-updates/fda-101-dietary-supplements

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ذیابیطس - ہماری غذا ہماری دشمن

شوگر کی دو اقسام ہیں۔ ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو۔ پہلی قسم کی شوگر ہمارے مدافعتی نظام میں خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیماری شوگر کے تمام مریضوں کا تقریبا دس فیصد سے بھی کم ہوتا ہے اور یہ عام طور پر بچوں اور جوان لوگوں کو لاحق ہوتی ہے۔ اس بیماری میں ہمارا مدافعتی نظام ہی ہمارے لبلبے پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔ اور لبلبے کو انسولین بنانے سے روک دیتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلاء شخص کو انسولین کے انجیکشن لینے پڑتے ہیں تاکہ وہ اپنے جسم کی انسولین کی ضرورت کو پورا کر سکے۔  دوسری قسم جوکہ 90 فیصد لوگوں میں پائی جاتی ہے اس میں لبلبہ انسولین بناتا ہے مگر خوراک میں موجود گلوکوز کی زیادہ مقدارکی وجہ سے انسولین مکمل طور پر شوگر یا گلوکوز کو خون سے نکال کر جسم کا حصہ نہیں بنا پاتی اس وجہ سے خون میں گلوکوز کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ خون کا ٹیسٹ کرنے پہ بڑھی ہوئی شوگر نظر آتی ہے۔ خون سے ہوتی ہوئی یہ شوگر پیشاب کے راستے باہر نکل جاتی ہے اور جسم بھوکا ہی رہ جاتا ہے۔ خون میں شوگر کا زیادہ دیر تک اضافی مقدار جسم میں سوزش پیدا کرتی ہے۔  شوگر سے پیدا شدہ سوزش ہمارے اندر انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کرتی...

بیماری کو شکست دینے کے لیے کھائیں

خوراک جسمانی طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے مگر آج ہماری خوراک بیماریاں پیدا کرنے کی بنیادی وجہ بن چکی ہے۔ ایک تو خوراک کی ضرورت سے زیادہ فراہمی دوسرے زیادہ تر پراسیس شدہ جعلی خوراک۔ یہ دونوں عوامل مل کر ہماری خوراک کو ہمارے لئے زہر بنا رہے ہیں۔ ہم خوراک کو ذائقے خوشبو اور خوبصورت پیکنگ سے متاثر ہوکر کھا لیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ ہم جو کھا رہے ہیں اس کے جسم پر بہت دیر پا اثرات ہوتے ہیں۔ خوراک کے صحت پر اثرات کو سمجھنے کیلئے ہمیں پہلے صحت کے بارے میں تصور کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر بیماری نہ ہونے کو صحت سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ صحت اس سے بہت زیادہ کا معاملہ ہے۔ یہ مسلسل جدوجہد کا نام ہے جو پیدائش کے دن سے شروع ہوکر آخری دن تک چلتی ہے۔ ہمارا امیون سسٹم یا جسے ہم مدافعتی نظام کہتے ہیں وہ ہمارے جسم کی حفاظت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ہمارے مدافعتی نظام کے کئے حصے ہیں۔ کچھ تو اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ یہ کینسر جیسے موذی مرض کو بھی ختم کرنے کی صلاحیت رکھت ہیں۔ یہ نظام مختلف سیکشنز میں کام کرتا ہے مگر یہ ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور مکمل ہم آہنگی سے کام کرتے ہیں۔ ہم اس نظام کے مختلف حصوں کو مض...