نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

خوراک کی بد اعمالیاں


اسلام و علیکم! دوستو ہم یہاں شوگر اور بلڈ پریشر جیسے موذی بیماریوں سے نجات کا غذائی طریقہ بتانے جا رہے ہیں۔ دنیا اس طریقہ کو اپنا کر جسم کو صحتمند بنا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں ادویات کا استعمال کم سے کم ہو رہا ہے۔ میں نے یہ خوراک مارچ 2023 میں اختیار کی۔ ایک ماہ سے کم عرصے میں میں نے اپنی بلڈ پریشر، یورک ایسڈ اور کولیسٹرول کی ادویات لینا چھوڑ دیں۔ تب سے اب تک نہ بلڈ پریشر کا مسئلہ رہا نہ اور یورک ایسڈ کی وجہ سے ہونے والی دردیں ہیں بلکہ الٹا سات ماہ میں میرا سولہ کلو وزن کم ہوا ہے اور اب میرا ہر دن بھرپور گزرتا ہے۔ 


صحت کی اھمیت کا احساس ہمیں جوانی میں نہیں ہوتا۔ ہم اپنی خوراک سے اپنی عادات سے ہر لمحے اپنی صحت کو برباد کرتے ہیں۔ اپنے ہر کھانے میں زہر ملا کر کھاتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا جسم اندر سے کھوکھلا ہوتا جاتا ہے۔ ہر روز بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں۔ آپ اپنی گاڑی میں چند روز تک گندہ فیول استعمال کریں پھر دیکھیں کہ کیسے آپ کی گاڑی راہ چلتے کام رکنا چھوڑ دے گی۔ ہم کبھی اپنی گاڑی میں ایسا فیول استعمال نہیں کریں گے جس کی وجہ سے گاڑی کے انجن کو نقصان پہنچے مگر ہم جسم کے بارے میں ہم بہت لاپرواہ ہیں جسم کو فیول دینے کیلئے ہم کوالٹی کو نہیں چسکے کو مدنظر رکھتے ہیں۔ جدید دور کا انسان محنت کرنا چھوڑ گیا ہے کام آسان ہوگئے ہیں اور کھانے کو بےشمار آپشنز آگئے ہیں۔ کھانے میں زبان کو تسکین دینے والی کوئی بھی چیز چلے گی۔ ہمارا جسم ان چسکے والی اشیاء بیمار ہوتا ہے مگر اللہ پاک نے ہمارے جسم میں جو مدافعتی نظام رکھا ہے وہ ہماری بداعمالیوں سے ہونے والے نقصان کو زائل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ کھانے کے دوران وقفے کم ہونے کی وجہ سے ہمارا نقصان بڑھتا رہتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے جب جسم کا مدافعتی نظام کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ تبھی ہم صحت کیلئے دوائیوں کے محتاج ہونے لگتے ہیں۔۔۔۔


credit: www.myemeraldhealth.com/diet-for-obesity
ہماری خوراک ہمارا فیول ہے۔ جتنا زیادہ گندہ فیول جسم میں داخل ہوگا اتنا ہی زیادہ ہمارا جسم بیمار ہوگا۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہوکہ کون سی اشیاء ہمارے لئے بیماریوں کا باعث ہیں اور کون سی اشیاء اصل خوراک ہیں تو ہم زیادہ دیر تک تندرست و توانا رہ سکتے ہیں۔ بلڈ پریشر ہو یا زیابیطس جیسی موذی بیماری یہ خاندانی بیماریاں نہیں ہیں۔ یہ بیماریاں ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ ہیں۔ عام طور پر ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ جس کو بھی یہ بیماریاں ایک بار لگ گئیں تو اسے عمر بھر ادویات کو استعمال کرنا پڑے گا۔ جیسے ہی آپ ادویات استعمال کرنا چھوڑیں گے یہ بیماریاں آپ کی زندگی کیلئے خطرہ بن جائیں گی۔ اس ابتائیے کے بعد ڈاکٹر آپ کو ادویات شروع کروا دے گا۔ پھر سال دو سال کے اندر آپ کو ایک نئی مرض لاحق ہوگی جو شاید مسلسل دوائی کھانے اور گندی غذا کھانے سے لگ گئی ہے اس کی ایک اور دوائی آپ کی خوراک کا حصہ بن جائے گی۔۔۔۔ اور یوں آپ کی زندگی ادویات کی لڑی میں پرو دی جائے گی۔ آپ کی زندگی اس منحوس دائرے میں پھنستی چلی جائے گی۔ ادویات کھاتے جاؤ ڈنگ ٹپاتے جاؤ۔۔۔۔


میرا دوستوں کو مشورہ ہے کہ اگر آپ تھوڑی سی کوشش کریں۔ ذہن بنائیں اور اپنے کھانے پینے میں محتاط رویہ اختیار کریں تو نہ موجودہ بیماریاں رہیں گی نہ ادویات کی ضرورت ہوگی۔۔۔۔۔ ہمارے ساتھ رہ کر آپ صحت کی سائنس کو سمجھ پائیں گے۔ جس بیماریوں کی وجہ سمجھ آجائے اور جو صحت مند زندگی کو اختیار کرنا چاہے تو وہ میرے عزیز دوست جناب اصغر کی طرح فوری فیصلہ کر کے اپنی زندگی کو بدل سکتا ہے۔ میرے دوست اسی گروپ کا حصہ ہیں وہ جلد آپ کو اپنی زندگی کی بتدیلیوں کے بارے میں بتائیں گے۔


باقی باتیں تفصیل سے اگلی پوسٹوں میں کرتے رہیں گے۔ آپ سے صحت کے اس سفر پر چلنے سے پہلے صرف یہ گزارش کرنی ہے کہ آج سے دوسرے تمام معاملات کی طرح اپنے جسم کی صحت پر توجہ دینا شروع کردیں۔ کھانے کیلئے ہاتھ بڑھانے سے پہلے سوچیں کہ جو چیز آپ کھانے جا رہے ہیں کیا وہ میری صحت کیلئے فائدہ مند یا یہ صرف زبان کے چسکے کیلئے ہے؟



ادویات سے چھٹکارے کی طرف پہلا قدم اٹھائیں : چینی اور آٹے کا استعمال کم کردیں۔۔۔۔۔ جتنا کم کر سکتے ہیں اتنا کم

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ذیابیطس - ہماری غذا ہماری دشمن

شوگر کی دو اقسام ہیں۔ ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو۔ پہلی قسم کی شوگر ہمارے مدافعتی نظام میں خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیماری شوگر کے تمام مریضوں کا تقریبا دس فیصد سے بھی کم ہوتا ہے اور یہ عام طور پر بچوں اور جوان لوگوں کو لاحق ہوتی ہے۔ اس بیماری میں ہمارا مدافعتی نظام ہی ہمارے لبلبے پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔ اور لبلبے کو انسولین بنانے سے روک دیتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلاء شخص کو انسولین کے انجیکشن لینے پڑتے ہیں تاکہ وہ اپنے جسم کی انسولین کی ضرورت کو پورا کر سکے۔  دوسری قسم جوکہ 90 فیصد لوگوں میں پائی جاتی ہے اس میں لبلبہ انسولین بناتا ہے مگر خوراک میں موجود گلوکوز کی زیادہ مقدارکی وجہ سے انسولین مکمل طور پر شوگر یا گلوکوز کو خون سے نکال کر جسم کا حصہ نہیں بنا پاتی اس وجہ سے خون میں گلوکوز کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ خون کا ٹیسٹ کرنے پہ بڑھی ہوئی شوگر نظر آتی ہے۔ خون سے ہوتی ہوئی یہ شوگر پیشاب کے راستے باہر نکل جاتی ہے اور جسم بھوکا ہی رہ جاتا ہے۔ خون میں شوگر کا زیادہ دیر تک اضافی مقدار جسم میں سوزش پیدا کرتی ہے۔  شوگر سے پیدا شدہ سوزش ہمارے اندر انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کرتی...

میں بھی بیمار میرا ڈاکٹر بھی بیمار ۔۔۔۔ ایسا کیوں ہے؟

    میٹھا نہ کھائیں اور پراسیس شدہ اشیاء سے پرہیز کریں۔ یہ تجویز تو بہت عرصے سے دی جا رہی ہے مگر پھر بھی شوگر، موٹاپا، بلڈ پریشر اور دیگر موضی بیماریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اب یہ بات بہت واضع ہوچکی ہے کہ یہ سب بیماریاں خوراک کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان بیماریوں سے دل کی بیماریاں بھی پیدا ہورہی ہیں۔ اس مسئلے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اور ہمارے ڈاکٹر چند ایک بنیادی باتوں کے علاوہ ڈائیٹ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔   مریض کو ڈاکٹر پر بھروسہ ہوتا ہے اس کی خوراک پر دی گئی تجاویز بہت اثرانداز ہوسکتی ہیں۔ مگر افسوس کہ ڈاکٹرز کی ساری تعلیم بیماری کے علاج سے متعلق ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کو غذائی علم نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اسی لئے آج کے ڈاکٹر خود بھی بہت بیمار ہیں۔ اکثر ڈاکٹروں کا ضرورت سے زیادہ وزن ہے یا وہ خود بھی شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض ہیں۔ امریکی کالجز میں اس کی ٹریننگ میں غذائی تعلیم کا ٹوٹل وقت 25 گھنٹے یا اس سے بھی کم ہے۔ اور یہ بھی امریکہ کے چند ایک کالجز میں سہولت موجود ہے جو کہ کل کا تقریبا 29 فیصد بنتا ہے۔ گویا کہ اکثر ڈاکٹرز کو نیوٹریشن کی تعلیم نہیں دی جاتی۔   ...

نشاستہ یا کارب بیماریوں کی بنیاد

  شوگر اور بلڈ پریشر بیماری نہیں بلکہ غذائی بد اعمالیوں کے اثرات ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگی ادویات کی محتاج نہیں کرنا چاہتے تو ہمیں ھیلتھ سائنسز کو سمجھنے کیلئے تھوڑی کوشش کرنی ہوگی۔ ہم شوگر کی بیماری میں جتنی بھی احتیاط کریں اور ہم جتنا بھی وقت پر ادویات لیتے رہیں چند سالوں کے بعد ہماری دوائیوں میں کمی نہیں ہوتی بلکہ کچھ عرصے بعد ایک آدھ گولی مزید تجویز ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر سے پوچھیں تو وہ آپ کو قصور وار گردانے گا اور آپ اس سے ایک نئی گولی اور احساس جرم لے کر واپس لوٹ آئیں گے۔  اصل بات یہ ہے کہ ہم نیوٹریشن سائنس کو نہیں سمجھتے۔ اسی لئے ہم یہ جان ہی نہیں پاتے کہ ہماری خوراک کا ہماری صحت اور ہماری جسمانی بیماری پر کیا اثر ہورہا ہے۔ ہمارے اس گروپ کا بنیادی مقصد یہ ہےکہ ہم نیوٹریشن کی جدید سائنس سمجھیں اور دیکھیں کہ کیسے دنیا بھر میں لوگ شوگر بلڈ پریشر جیسے بیماریوں سے مستقل طور پر نجات پا رہے ہیں۔  یہ بات تو ہر شوگر کے مریض کو معلوم ہے کہ شوگر کا استعمال ہماری شوگر کی بیماری کو بڑھا دیتا ہے۔ ڈاکٹر بھی ہمیں تجویز کرتے ہیں کہ چینی کا استعمال بلکل نہ کریں۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ ...