نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

غذائی چربی

 

چربی کیا ہے؟ 

جب آپ کیٹو ڈائیٹ پر ہوتے ہیں تو طاقت کا بنیادی ذریعہ فیٹ ہوتا ہے لہذا درست طرح کی خوراک کھانا اور اچھا فیٹ منتخب کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔

چربی ہم جانور سے بھی حاصل کرتے ہیں اور پھل سبزیوں سے بھی۔ اس کا بنیادی کام تو توانائی مہیا کرنا ہے مگر اس کے علاوہ کاموں میں بھی یہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔

۔ چند ایک وٹامن جو صرف فیٹ میں جزب ہوتے ہیں جیسے کہ وٹامن اے، ڈی، ای اور کے انھیں ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

۔ جسمانی سوزش کو کم کرنے اور مدافعتی نظام کو بہتر کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

۔ یہ جسم کے خلئیوں کی صحت قائم رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔ جس میں جلد اور بالوں کے خلئے شامل ہیں۔

۔ اس کے علاوہ یہ آپ کے کھانوں کو زائقہ دار بناتا ہے اور آپ کو زیادہ دیر تک بھوک محسوس نہیں ہونے دیتا۔ خوراک میں موجود فیٹ ٹرائیگلیسرائیڈ کی شکل میں ہوتا ہے۔ ٹرائیگلیسرائیڈ دراصل ایک پیک ہوتا ہے جس میں گلیسرول ہوتے ہیں جو کہ دو یا دو سے زیادہ فیٹی ایسڈز سے مل کر ایک چین کی شکل بنالیتے ہیں۔ یہ کاربن اور ہائیڈروجن کے آئٹم سے مل کر بنے ہوتے ہیں۔ فیٹ کی کئی اقسام ہیں۔ سیچوریٹڈ، ان سیچوریٹڈ




سیچوریٹڈ فیٹ

اس قسم کے فیٹ کمرے کے درجہ حرارت پر جمے رہتے ہیں۔ صحتمند سیچوریٹڈ فیٹ میں مکھن، گھی اور کریم شامل ہیں۔

مونو ان سیچوریٹڈ فیٹ

یہ فیٹ کمرے کے درجہ حرارت پر جمتے نہیں صحتمند مونو سیچوریٹڈ فیت کی مثال میں آلیوآئل، اواکاڈو اور نٹس (خشک میوہ جات) شامل ہیں۔

پولی ان سیچوریٹڈ فیٹ

پولی ان سیچوریٹڈ فیٹ میں دو طرح کے فیٹ شامل ہیں اومیگا 3 اور اومیگا 6۔ یہ ہمیں مچھلی گوشت اور نٹس سے ملتے ہیں۔

مکھن گھی اور ناریل کا تیل جو لانگ چین فیٹ ایسڈ بھی کہلاتا ہے خون میں جزب ہونے کے بجائے یہ سیدھا جگر میں جاتا ہے اور کیٹونز میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہ جسم میں جمع نہیں ہوتے ضرورت سے زیادہ جسم سے خارج ہوجانے ہیں۔ جبکہ باقی قسم کے فیٹ شارٹ چین اور میڈیم چین فیٹ خون میں جزب ہوتا ہے جس کا کچھ حصہ توانائی میں استعمال ہوجاتا ہے باقی جسم میں چربی کی صورت محفوظ ہوجاتا ہے۔


کولیسٹرول کیا ہے؟

عام طور پر کولیسٹرول کو فیٹ یا چربی کا جز مانا جاتا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ کولیسٹرول گاڑھا مواد ہوتا ہے اور ہمارے جسم کا لازمی حصہ ہے۔ یہ خوراک سے انڈوں اور جانور کے گوشت حاصل ہوتا ہے۔ جانور کے اعضاء میں سب سے زیادہ کولیسٹرول پایا جاتا ہے۔ فیٹ کی طرح یہ جسم کو توانائی نہیں دیتا مگر اس کی جسم کو اشد ضرورت ہوتی ہے۔ یہ جسم میں سٹیرائڈ ہارمون بنانے، وٹامن ڈی بنانے، ہاضم ایسڈ بائل پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔  جس کی مدد سے چربی ہضم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کولیسٹرول مایولین بناتا ہے جو خون کی نالیوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اگر کہیں نالیوں  میں سوزش پائی جائے وہاں مرمت کی غرض سے کولیسٹرول جمع ہونے لگتا ہے۔ جسے ہم عام طور پر کلاٹ کہتے ہیں۔

یہ صرف خوراک  سے ہی حاصل نہیں ہوتا بلکہ ہمارے تمام سیل خود بھی اسے بناتے ہیں۔ خوراک سے ملنے والا کولیسٹرول بہت کم مقدار میں ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارا جگر جسم کی ضرورت پوری کرنے کیلئے کافی مقدار میں کولیسٹرول پیدا کرتا ہے۔ کھانے سے حاصل شدہ کولیسٹرول خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو نہیں بڑھاتا۔ بلکہ خوراک سے ملنے والا کولیسٹرول ہمارے جگر کیلئے آسان کا باعث بنتا ہے۔ جگر کو اتنا کم کولیسٹرول بنانا پڑتا ہے جتنا ہم خوراک سے لیتے ہیں۔

ضرورت سے زیادہ کولیسٹرول کی موجودگی خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔ اس کیلئے خوراک میں انسیچوریٹڈ فیٹ والی غذا کو شامل کرنا بہتر انتخاب ہوگا۔

 

کون سا فیٹ کھائیں

دہائیوں تک امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن لوگوں کو بتاتی رہی کہ سیچوریٹڈ فیٹ نہ کھائیں یہ دل کے امراض کو بڑھاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ درست نہیں تھا۔ متناسب مقدار میں فیٹ کا استعمال اچھی صحت کیلئے نہایت ضروری ہے۔ اومیگا 6 برا فیٹی ایسڈ ہے مگر یہ ہر اس اچھی غذا کا حصہ ہوتا ہے جس میں اچھا فیٹ ایسڈ جسے ہم اومیگا 3 کہتے ہیں ہوتا ہے۔ اصل بات ہے ان کا تناسب درست رکھنا۔ اگر ہم بازاری ویجیٹیبل آئیل استعمال کرتےہیں تو اس میں اومیگا 6 وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے مگر اومیگا 3 بلکل نہیں پایا جاتا۔۔۔۔ اومیگا 3 کی عدم موجودگی اور اومیگا 6 کی کثیر تعداد اسے ہمارے لئے خطرناک بنادیتی ہے۔ یہ آئیل جسم میں سوزش پیدا کرتا ہے جس کے نتیجے میں مختلف قسم کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

کیٹوجینک ڈائیٹ پلان پر عمل کرتے ہوئے آپ تمام قسم کے صحت مند فیٹ استعمال کر سکتے ہیں۔ جس میں دیسی گھی، مکھن، کریم، زیتون کا تیل، ناریل کا تیل، السی کا تیل وغیرہ اس کے علاوہ بڑے گوشت کی چربی بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ چربی بازاری تیل سے کئی گنا بہتر ہے جو بیماریاں پیدا کرنے کا باعث ہوتا ہے۔

صحتمند چربی والی خوراک سے بلکل نہ گھرائیں بس یہ خیال رکھیں کہ خوراک میں کارب شامل نہ ہوں۔ پیکٹ میں ملنے والی جعلی غذاؤں کو اپنی زندگی سے نکال دیں۔ اور انڈے، مجھلی، گوشت، گھی، مکھن، ناریل اور زیتون کا تیل، السی کے بیج، چیا کے بیج، اخروٹ وغیرہ کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنالیں۔

 

کاربوہائیڈریٹس سے بنی اشیاء جیسے آٹا، چینی، چاول اور ان سے بنی اشیاء سے پرہیز کریں۔ یہ غذائیں جسم میں شوگر اور سوزش کا باعث بنتی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ذیابیطس - ہماری غذا ہماری دشمن

شوگر کی دو اقسام ہیں۔ ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو۔ پہلی قسم کی شوگر ہمارے مدافعتی نظام میں خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیماری شوگر کے تمام مریضوں کا تقریبا دس فیصد سے بھی کم ہوتا ہے اور یہ عام طور پر بچوں اور جوان لوگوں کو لاحق ہوتی ہے۔ اس بیماری میں ہمارا مدافعتی نظام ہی ہمارے لبلبے پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔ اور لبلبے کو انسولین بنانے سے روک دیتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلاء شخص کو انسولین کے انجیکشن لینے پڑتے ہیں تاکہ وہ اپنے جسم کی انسولین کی ضرورت کو پورا کر سکے۔  دوسری قسم جوکہ 90 فیصد لوگوں میں پائی جاتی ہے اس میں لبلبہ انسولین بناتا ہے مگر خوراک میں موجود گلوکوز کی زیادہ مقدارکی وجہ سے انسولین مکمل طور پر شوگر یا گلوکوز کو خون سے نکال کر جسم کا حصہ نہیں بنا پاتی اس وجہ سے خون میں گلوکوز کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ خون کا ٹیسٹ کرنے پہ بڑھی ہوئی شوگر نظر آتی ہے۔ خون سے ہوتی ہوئی یہ شوگر پیشاب کے راستے باہر نکل جاتی ہے اور جسم بھوکا ہی رہ جاتا ہے۔ خون میں شوگر کا زیادہ دیر تک اضافی مقدار جسم میں سوزش پیدا کرتی ہے۔  شوگر سے پیدا شدہ سوزش ہمارے اندر انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کرتی...

سپلیمنٹس کی حقیقت : چند حقائق

  جو لوگ صحت توجہ دیتے ہیں وہ مختلف قسم کی صحتمند عادات اپناتے ہیں۔ خوراک کے انداز تبدیل کرتے ییں ورزش کو معمول بناتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اکثر لوگ سپلیمنٹس بھی اپنی خوراک میں شامل کرلیتے ہیں۔ اکثر و بیشتر فٹنس ماہرین اور ڈاکٹرز سپلیمنٹ تجویز کرتے ہیں۔ بیماری میں خوراک کی کمی واقع ہوجاتی ہے جسم کمزور ہوتا ہے اس لئے ڈاکٹر سپلیمنٹ تجویز کرتے ہیں۔ یہ محدود مدت کیلئے تجویز کئے جاتے ہیں۔ اور اکثر اوقات صحتمند ہونے کے بعد ڈاکٹر ان کے استعمال سے روک دیتے ہیں۔ کچھ لوگ جن کا بزنس ہی سپلیمنٹ بیچنا ہوتا ہے اگر ان سے پوچھیں گے تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ کوئی بھی خوراک کھالیں آپ کو وٹامن اور نیوٹریشن کی کمی لازمی رہتی ہے جسے آپ کو سپلیمنٹ استعمال کرکے پورا کرنا چاہئے۔   سپلیمنٹس کیا ہیں؟ ملٹی وٹامن، وٹامن ڈی، مچھلی کا تیل اور اسی طرح کے بےشمار ناموں سے سپلیمنٹ مارکیٹ میں آچکے ہیں۔ ان کو بنانے والی کمپنیوں کا دعوہ ہے کہ یہ آپ کی خوراک کمی کو پورا کرتے ہیں۔ ان کے استعمال سے آپ کو صحت کے چند فوائد حاصل ہوسکتے ہیں مگر خیال رہے کہ ان میں خطرات بھی موجود ہیں۔ سپلیمنٹ کے استعمال سے پہلے اپن...

بیماری کو شکست دینے کے لیے کھائیں

خوراک جسمانی طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے مگر آج ہماری خوراک بیماریاں پیدا کرنے کی بنیادی وجہ بن چکی ہے۔ ایک تو خوراک کی ضرورت سے زیادہ فراہمی دوسرے زیادہ تر پراسیس شدہ جعلی خوراک۔ یہ دونوں عوامل مل کر ہماری خوراک کو ہمارے لئے زہر بنا رہے ہیں۔ ہم خوراک کو ذائقے خوشبو اور خوبصورت پیکنگ سے متاثر ہوکر کھا لیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ ہم جو کھا رہے ہیں اس کے جسم پر بہت دیر پا اثرات ہوتے ہیں۔ خوراک کے صحت پر اثرات کو سمجھنے کیلئے ہمیں پہلے صحت کے بارے میں تصور کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر بیماری نہ ہونے کو صحت سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ صحت اس سے بہت زیادہ کا معاملہ ہے۔ یہ مسلسل جدوجہد کا نام ہے جو پیدائش کے دن سے شروع ہوکر آخری دن تک چلتی ہے۔ ہمارا امیون سسٹم یا جسے ہم مدافعتی نظام کہتے ہیں وہ ہمارے جسم کی حفاظت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ہمارے مدافعتی نظام کے کئے حصے ہیں۔ کچھ تو اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ یہ کینسر جیسے موذی مرض کو بھی ختم کرنے کی صلاحیت رکھت ہیں۔ یہ نظام مختلف سیکشنز میں کام کرتا ہے مگر یہ ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور مکمل ہم آہنگی سے کام کرتے ہیں۔ ہم اس نظام کے مختلف حصوں کو مض...