نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مدافعتی نظام اور ہماری خوراک

  

ہوتا یہ ہے کہ جب آپ اپنی جلد کو کاٹ لیں یا اپنی آنکھوں کو رگڑیں یا پھر کچھ ایسا کھا لیں جو صفائی کے اصولوں کے مطابق نہ ہو توکوئی وائرس یا بیکٹیریا کی صورت ایک بن بلایا مہمان آپ کے جسم میں گھس جاتا ہے۔ یہ باہروالا ہمارے جسم میں اپنی نسل افزائی کا کام کرتا ہے ہمارے اعضاء کو کھانا شروع کردیتا ہے۔ اور ہم بیمار ہونے لگتے ہیں۔

 

یہاں کام پر لگتا ہے آپ کا حفاظتی نظام آپ کے جسم کے کمانڈوز ایکشن میں آتے ہیں۔ خون کے سفید خلئے اور دوسرے کیمیکلز دہشتگرد کو گھیرتے ہیں اور پھر تباہ کر کے ہی سانس لیتے ہیں۔ اگر تو دشمن پہلے بھی حملہ آور ہوچکا ہے تو ہمارے سپاہی اسے جلد پہچان جاتے ہیں۔ اس کے خلاف کون سا اسلحہ کارگر ہوگا وہ بھی جانتے ہیں لہذا وہ جلد اس پر قابو پالیتے ہیں لیکن اگر کوئی نیا بدمعاش جسم میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے تو پھر ہمارے دفاعی نظام کو اسے پہچاننے اور مارنے میں کچھ وقت لگ جاتا ہے۔

 

ہمارے جسم کے باہر لاکھوں طرح کے حملہ آور انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب آپ کا جسم کٹے یا آپ کوئی ایسی چیز کھائیں جس پر یہ براجمان ہوتے ہیں اور پھر یہ آپ کے جسم کو اپنی کالونی بنا لیں۔ جسم میں پہنچتے ہیں یہ اپنی نسل بڑھانے لگتے ہیں۔ چند ایک تو منٹوں اور گھنٹوں میں لاکھوں کی تعداد پیدا کرلیتے ہیں۔ اسی صورتحال کو ہم انفیکشن کہتے ہیں۔

 

جیسے ہی جسم میں انفیکشن ہوتا ہے اسی وقت جسم میں الارم بج جاتے ہیں۔ مدافعتی نظام حرکت میں آتا ہے۔ ہمارے خون کے سفید خلئے جراثیم کو مارنے کیلئے اس کے ساتھ چپک جاتےہیں اور انٹی باڈیز بناتے ہیں۔ تجربہ ہمارے نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ پہلی بار والے انفیکشن سے لڑنے میں ہمیں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ اس لڑائی میں خون کے سفید مجاہد کام آتے ہیں۔ جب لڑائی زور پکڑ جاتی ہے تو ہمیں زیادہ تعداد میں سفید خلیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔۔ اسی دوران ہمارے خون میں سفید خلیوں کی کمی واقع ہونے لگتی ہے اور جسم کمزور پڑنے لگتا ہے۔

 

دفاعی فورس کو کیسے مضبوط بنائیں؟

 

بیماری کے دوران ہمیں ایسی خوراک استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارے مدافعتی نظام کو طاقت مہیا کرے۔ ہماری خوراک اس لڑائی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دوائی کا کام بھی ہمارے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانا ہی ہوتا ہے۔ اسی لئے جب کسی کو ایڈز کی بیماری ہوتی ہے تو اس پر کوئی بھی دوائی کارگر نہیں ہوپاتی کیونکہ ایڈز ہمارے مدافعتی نظام پر حملہ آور ہو کر اسے بہت کمزور کردیتا ہے۔ صحتمند دفاعی نظام بھی انفیکشن سے لڑنے کے دوران کمزور ہونے لگتا ہے۔ اسے مضبوط کرنےکیلئے ہمیں خوراک پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

چند ایک اسی غذاؤں کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے جن کے استعمال سے ہم اپنے مدافعتی نظام کولڑائی کیلئے بھرپور کمک مہیا کرسکتےہیں اور بیرونی گھس بیٹھیئے کو باآسانی مار سکتے ہیں۔

 

مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے والی چند غذائیں:

 

سبز چائے

کفیر

بادام

سٹریس فروٹ(مالٹا، لیموں، گریپ فروٹ، لائم)

دہی

بلیو بیری

ڈارک چاکلیٹ

سہانجنہ

 

مچھلی

بڑے گوشت کی یخنی

چکن

پالک

تھوم

ہلدی

کالی مرچ

ادرک

 

https://www.webmd.com/cold-and-flu/immune-system-fight-infection

https://www.sciencedirect.com/science/article/pii/S2405844021000621

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ذیابیطس - ہماری غذا ہماری دشمن

شوگر کی دو اقسام ہیں۔ ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو۔ پہلی قسم کی شوگر ہمارے مدافعتی نظام میں خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیماری شوگر کے تمام مریضوں کا تقریبا دس فیصد سے بھی کم ہوتا ہے اور یہ عام طور پر بچوں اور جوان لوگوں کو لاحق ہوتی ہے۔ اس بیماری میں ہمارا مدافعتی نظام ہی ہمارے لبلبے پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔ اور لبلبے کو انسولین بنانے سے روک دیتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلاء شخص کو انسولین کے انجیکشن لینے پڑتے ہیں تاکہ وہ اپنے جسم کی انسولین کی ضرورت کو پورا کر سکے۔  دوسری قسم جوکہ 90 فیصد لوگوں میں پائی جاتی ہے اس میں لبلبہ انسولین بناتا ہے مگر خوراک میں موجود گلوکوز کی زیادہ مقدارکی وجہ سے انسولین مکمل طور پر شوگر یا گلوکوز کو خون سے نکال کر جسم کا حصہ نہیں بنا پاتی اس وجہ سے خون میں گلوکوز کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ خون کا ٹیسٹ کرنے پہ بڑھی ہوئی شوگر نظر آتی ہے۔ خون سے ہوتی ہوئی یہ شوگر پیشاب کے راستے باہر نکل جاتی ہے اور جسم بھوکا ہی رہ جاتا ہے۔ خون میں شوگر کا زیادہ دیر تک اضافی مقدار جسم میں سوزش پیدا کرتی ہے۔  شوگر سے پیدا شدہ سوزش ہمارے اندر انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کرتی...

سپلیمنٹس کی حقیقت : چند حقائق

  جو لوگ صحت توجہ دیتے ہیں وہ مختلف قسم کی صحتمند عادات اپناتے ہیں۔ خوراک کے انداز تبدیل کرتے ییں ورزش کو معمول بناتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اکثر لوگ سپلیمنٹس بھی اپنی خوراک میں شامل کرلیتے ہیں۔ اکثر و بیشتر فٹنس ماہرین اور ڈاکٹرز سپلیمنٹ تجویز کرتے ہیں۔ بیماری میں خوراک کی کمی واقع ہوجاتی ہے جسم کمزور ہوتا ہے اس لئے ڈاکٹر سپلیمنٹ تجویز کرتے ہیں۔ یہ محدود مدت کیلئے تجویز کئے جاتے ہیں۔ اور اکثر اوقات صحتمند ہونے کے بعد ڈاکٹر ان کے استعمال سے روک دیتے ہیں۔ کچھ لوگ جن کا بزنس ہی سپلیمنٹ بیچنا ہوتا ہے اگر ان سے پوچھیں گے تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ کوئی بھی خوراک کھالیں آپ کو وٹامن اور نیوٹریشن کی کمی لازمی رہتی ہے جسے آپ کو سپلیمنٹ استعمال کرکے پورا کرنا چاہئے۔   سپلیمنٹس کیا ہیں؟ ملٹی وٹامن، وٹامن ڈی، مچھلی کا تیل اور اسی طرح کے بےشمار ناموں سے سپلیمنٹ مارکیٹ میں آچکے ہیں۔ ان کو بنانے والی کمپنیوں کا دعوہ ہے کہ یہ آپ کی خوراک کمی کو پورا کرتے ہیں۔ ان کے استعمال سے آپ کو صحت کے چند فوائد حاصل ہوسکتے ہیں مگر خیال رہے کہ ان میں خطرات بھی موجود ہیں۔ سپلیمنٹ کے استعمال سے پہلے اپن...

بیماری کو شکست دینے کے لیے کھائیں

خوراک جسمانی طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے مگر آج ہماری خوراک بیماریاں پیدا کرنے کی بنیادی وجہ بن چکی ہے۔ ایک تو خوراک کی ضرورت سے زیادہ فراہمی دوسرے زیادہ تر پراسیس شدہ جعلی خوراک۔ یہ دونوں عوامل مل کر ہماری خوراک کو ہمارے لئے زہر بنا رہے ہیں۔ ہم خوراک کو ذائقے خوشبو اور خوبصورت پیکنگ سے متاثر ہوکر کھا لیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ ہم جو کھا رہے ہیں اس کے جسم پر بہت دیر پا اثرات ہوتے ہیں۔ خوراک کے صحت پر اثرات کو سمجھنے کیلئے ہمیں پہلے صحت کے بارے میں تصور کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر بیماری نہ ہونے کو صحت سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ صحت اس سے بہت زیادہ کا معاملہ ہے۔ یہ مسلسل جدوجہد کا نام ہے جو پیدائش کے دن سے شروع ہوکر آخری دن تک چلتی ہے۔ ہمارا امیون سسٹم یا جسے ہم مدافعتی نظام کہتے ہیں وہ ہمارے جسم کی حفاظت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ہمارے مدافعتی نظام کے کئے حصے ہیں۔ کچھ تو اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ یہ کینسر جیسے موذی مرض کو بھی ختم کرنے کی صلاحیت رکھت ہیں۔ یہ نظام مختلف سیکشنز میں کام کرتا ہے مگر یہ ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور مکمل ہم آہنگی سے کام کرتے ہیں۔ ہم اس نظام کے مختلف حصوں کو مض...