نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کالی مرچ: وٹامنز کا پاور ہاؤس

 

کالی مرچ کے استعمال کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ یہ انڈیا میں دو ہزار سال قبل مسیح بھی استعمال ہوتی تھی۔ اس کو پرانے وقتوں میں کالا سونا بھی کہا جاتا تھا۔ یہ مصالحوں میں سب سے مہنگی شے مانی جاتی تھی۔ اسے یورپین نے انڈیا سے ڈسکور کیا اور پھر سارے یورپ میں اس کی ڈیمانڈ پیدا ہوگئی۔ اس کے زائقے کا تو ہر کوئی متوالا ہے مگر اس کی افادیت سے ہر کوئی واقف نہیں۔ کالی مرچ میں موجود سفید مواد جسے سائنسی زبان میں پیپرین کہتے ہیں۔ پیپرین کا استعمال دوا سازی کی صنعت میں بھی ہوتا ہے۔ پیپرین کے صحت پر بہت سے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پیپرین دائمی بیماریوں سے لڑنے میں مددگار ہے۔ 


کالی مرچ میں موجود یہ جز انسولین ریسسٹنس، اندرونی جسمانی سوزش اور جگر کی بیماری میں بہت کارگر ثابت ہوئی ہے۔ کالی مرچ  کا سب سے اہم کام اس کا ہمارے مدافعتی نظام کو طاقت بخشنا ہے۔ کالی مرچ جسم میں موجود فاضل مادوں کو نکالنے میں مددگار ہوتی ہے۔ یہ معدے کی اندرونی دیوار کو مضبوط بناتی ہے جس کی وجہ سے معدے کا السر ہونے کے مواقع بھی کم ہوجاتے ہیں۔ یہ معدے میں ہائیڈروکلورک ایسڈ پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے آپ کی خوراک زیادہ بہتر طور پر ہضم ہوتی اور طاقت بن کر جسم کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ یہ آنتوں میں گیس جمع نہیں ہونے دیتی۔ کالی مرچ ہمارے مدافعتی نظام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ہمارے مدافعتی نظام کے سپاہی سفید سیلوں کو بڑھانے کا کام کرتی ہے جس کی وجہ سے ہمارا جسم حملہ آور بیکٹیریا اور وائرس کی بہتر طریقہ سے مقابلہ کر پاتا ہے۔ سفید خلئے ہمیں بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔


کالی مرچ میں بہت سے وٹامن اور منرل بھی موجود ہوتے ہیں۔ جن میں وٹامن کے، وٹامن ای، وٹامن اے، وٹامن بی ون، بی ٹو، بی فائیو، وٹامن بی سکس، میگنیز، کاپر، آئرن، کیلشیم، فاسفورس، پوٹاشیم، سیلیم، زنک اور کرومیم شامل ہیں۔


کالی مرچ میگنیز کا ایک اچھا ذریعہ ہے جو کہ ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے، زخموں کو جلدی بھرنے میں مدد دیتی ہے۔ مدافعتی نظام کا مددگار ہونے کی وجہ سے یہ تمام قسم کی بیماریوں میں فائدہ مند ہوتی ہے۔ یہ چھوٹی سی دکھنے والی چیز دراصل توانائی کا آئٹم بم ہے۔


ادویات کے بغیر زندگی

https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/27671817/#:~:text=Piperine%20is%20an%20alkaloid%20present,black%20pepper%20distinct%20biting%20quality.

https://www.sciencedirect.com/science/article/abs/pii/B9780128229231000133

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ذیابیطس - ہماری غذا ہماری دشمن

شوگر کی دو اقسام ہیں۔ ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو۔ پہلی قسم کی شوگر ہمارے مدافعتی نظام میں خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیماری شوگر کے تمام مریضوں کا تقریبا دس فیصد سے بھی کم ہوتا ہے اور یہ عام طور پر بچوں اور جوان لوگوں کو لاحق ہوتی ہے۔ اس بیماری میں ہمارا مدافعتی نظام ہی ہمارے لبلبے پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔ اور لبلبے کو انسولین بنانے سے روک دیتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلاء شخص کو انسولین کے انجیکشن لینے پڑتے ہیں تاکہ وہ اپنے جسم کی انسولین کی ضرورت کو پورا کر سکے۔  دوسری قسم جوکہ 90 فیصد لوگوں میں پائی جاتی ہے اس میں لبلبہ انسولین بناتا ہے مگر خوراک میں موجود گلوکوز کی زیادہ مقدارکی وجہ سے انسولین مکمل طور پر شوگر یا گلوکوز کو خون سے نکال کر جسم کا حصہ نہیں بنا پاتی اس وجہ سے خون میں گلوکوز کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ خون کا ٹیسٹ کرنے پہ بڑھی ہوئی شوگر نظر آتی ہے۔ خون سے ہوتی ہوئی یہ شوگر پیشاب کے راستے باہر نکل جاتی ہے اور جسم بھوکا ہی رہ جاتا ہے۔ خون میں شوگر کا زیادہ دیر تک اضافی مقدار جسم میں سوزش پیدا کرتی ہے۔  شوگر سے پیدا شدہ سوزش ہمارے اندر انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کرتی...

سپلیمنٹس کی حقیقت : چند حقائق

  جو لوگ صحت توجہ دیتے ہیں وہ مختلف قسم کی صحتمند عادات اپناتے ہیں۔ خوراک کے انداز تبدیل کرتے ییں ورزش کو معمول بناتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اکثر لوگ سپلیمنٹس بھی اپنی خوراک میں شامل کرلیتے ہیں۔ اکثر و بیشتر فٹنس ماہرین اور ڈاکٹرز سپلیمنٹ تجویز کرتے ہیں۔ بیماری میں خوراک کی کمی واقع ہوجاتی ہے جسم کمزور ہوتا ہے اس لئے ڈاکٹر سپلیمنٹ تجویز کرتے ہیں۔ یہ محدود مدت کیلئے تجویز کئے جاتے ہیں۔ اور اکثر اوقات صحتمند ہونے کے بعد ڈاکٹر ان کے استعمال سے روک دیتے ہیں۔ کچھ لوگ جن کا بزنس ہی سپلیمنٹ بیچنا ہوتا ہے اگر ان سے پوچھیں گے تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ کوئی بھی خوراک کھالیں آپ کو وٹامن اور نیوٹریشن کی کمی لازمی رہتی ہے جسے آپ کو سپلیمنٹ استعمال کرکے پورا کرنا چاہئے۔   سپلیمنٹس کیا ہیں؟ ملٹی وٹامن، وٹامن ڈی، مچھلی کا تیل اور اسی طرح کے بےشمار ناموں سے سپلیمنٹ مارکیٹ میں آچکے ہیں۔ ان کو بنانے والی کمپنیوں کا دعوہ ہے کہ یہ آپ کی خوراک کمی کو پورا کرتے ہیں۔ ان کے استعمال سے آپ کو صحت کے چند فوائد حاصل ہوسکتے ہیں مگر خیال رہے کہ ان میں خطرات بھی موجود ہیں۔ سپلیمنٹ کے استعمال سے پہلے اپن...

بیماری کو شکست دینے کے لیے کھائیں

خوراک جسمانی طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے مگر آج ہماری خوراک بیماریاں پیدا کرنے کی بنیادی وجہ بن چکی ہے۔ ایک تو خوراک کی ضرورت سے زیادہ فراہمی دوسرے زیادہ تر پراسیس شدہ جعلی خوراک۔ یہ دونوں عوامل مل کر ہماری خوراک کو ہمارے لئے زہر بنا رہے ہیں۔ ہم خوراک کو ذائقے خوشبو اور خوبصورت پیکنگ سے متاثر ہوکر کھا لیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ ہم جو کھا رہے ہیں اس کے جسم پر بہت دیر پا اثرات ہوتے ہیں۔ خوراک کے صحت پر اثرات کو سمجھنے کیلئے ہمیں پہلے صحت کے بارے میں تصور کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر بیماری نہ ہونے کو صحت سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ صحت اس سے بہت زیادہ کا معاملہ ہے۔ یہ مسلسل جدوجہد کا نام ہے جو پیدائش کے دن سے شروع ہوکر آخری دن تک چلتی ہے۔ ہمارا امیون سسٹم یا جسے ہم مدافعتی نظام کہتے ہیں وہ ہمارے جسم کی حفاظت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ہمارے مدافعتی نظام کے کئے حصے ہیں۔ کچھ تو اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ یہ کینسر جیسے موذی مرض کو بھی ختم کرنے کی صلاحیت رکھت ہیں۔ یہ نظام مختلف سیکشنز میں کام کرتا ہے مگر یہ ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور مکمل ہم آہنگی سے کام کرتے ہیں۔ ہم اس نظام کے مختلف حصوں کو مض...